فواد چوہدری کا راہداری ریمانڈ منظور آج ہی اسلام آباد کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم...
اہل خانہ کا اغوا کا مقدمہ درج کروانے کے لیے پولیس سے رابط‘مقدمہ درج نہ کرنے پر ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائرکرنے کا عندیہ
لاہور( جنوری ۔2023 ) لاہور کی کینٹ کچہری نے آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پھیلانے کے الزام میں گرفتار سابق وزیراطلاعات اور رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) فواد چوہدری کا راہداری ریمانڈ منظور کرتے ہوئے آج ہی اسلام آباد کی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے.انہوں نے بتایا کہ رٹ پٹیشن میں نگران وزیراعلی پنجاب‘آئی جی پنجاب پولیس‘سی ٹی ڈی اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا جائے گا. سابق وفاقی وزیرکے خلاف الیکشن کمیشن اور دیگر آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پھیلانے کے الزام میں لاہور سے گرفتار کیے جانے کے کئی گھنٹوں بعد راہداری ریمانڈ کے لیے کینٹ کچہری میں پیش کر دیا گیا ہے‘فواد چوہدری کو محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) اور پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ لاہور کی کینٹ کچہری میں لائے جہاں انہیں اسلام آباد منتقل کرنے کے لیے راہداری ریمانڈ لیا جا رہا ہےفواد چوہدری کو ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیے جانے پر پی ٹی آئی کے حامی وکلا نے ان پر گلاب کی پتیاں نچھاور کیں .
س موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ اتنی پولیس لگا دی ہے شاید کوئی جیمز بونڈ کو پیش کرنا ہے، مجھے دہشت گرد کی کیٹگری میں رکھا گیا فواد چوہدری کے راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کا آغاز ہوا تو فواد چوہدری نے فاضل جج سے ایف آئی آر کی کاپی فراہم کرنے کی استدعا کی، عدالتی حکم پر فواد چوہدری کو مقدمے کی کاپی دے دی گئی.دوران سماعت تفتیشی افسر عدالت کے روبرو پیش ہوئے، اس دوران تحریک انصاف کے راہنما حماد اظہر بھی کمرہ عدالت میں پہنچ گئے فواد چوہدری نے عدالت میں بیان دیا کہ جو مقدمہ مجھ پر درج ہوا ہے اس پر فخر ہے، نیلسن منڈیلا پر بھی یہی مقدمہ تھا انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے میں نے بغاوت کی میں نے الیکشن کمیشن سے متعلق جو بات کی سارا پاکستان وہی بات کر رہا ہے.انہوں نے کہا کہ میں سابق وفاقی وزیر اور سپریم کورٹ کا وکیل ہوں، مجھے عزت احترام کے ساتھ ٹریٹ کیا جائے، جس طرح گرفتار کیا گیا وہ مناسب نہیں تھا، مجھے یہ فون کرتے میں خود ہی آ جاتا دوران سماعت عدالت نے فواد چوہدری کے میڈیکل کرانے کی ہدایت کر دی. دریں اثنا تحریک انصاف کے وکلا نے فواد چوہدری کی ہتھکڑیاں کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی حبس بے جا کی درخواست ہائی کورٹ میں زیرالتوا ہے، جب تک ہائیکورٹ کا فیصلہ نہی آجاتا یہ عدالت راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت نہ کرے.بعدازاں جوڈیشل مجسٹریٹ نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی قبل ازیں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے کی جانی والی ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ فواد چوہدری کو درجنوں پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور نامعلوم گاڑیوں کے حصار میں کینٹ کچہری کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ فواد چوہدری نے آئینی اداروں کے خلاف شرانگیزی پیدا کرنے اور لوگوں کے جذبات مشتعل کرنے کی کوشش کی ہے، مقدمے پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے.
ٹوئٹر پر جاری بیان میں اسلام آباد پولیس کا کہنا تھا کہ سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر تھانہ کوہسار میں درج کیا گیا ہے، فواد چوہدری نے چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کو ان کے فرائض منصبی سے روکنے کے لیے ڈرایا دھمکایا. واضح رہے کہ گزشتہ شب تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے مبینہ حکومتی منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے تحریک انصاف کارکنان عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ کے باہر جمع ہوئے تھے جس کے چند گھنٹوں بعد پی ٹی آئی کی جانب سے فواد چوہدری کی گرفتاری کا دعوی سامنے آیا تھا.پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے کی جانے والی ٹوئٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ فواد چوہدری کو پولیس نے ان کے گھر سے گرفتار کرلیا ہے انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے تحریک انصاف کے راہنما نے اپنی ایک اور ٹوئٹ میں 2 ویڈیوز بھی شیئر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی یہ گاڑیاں فواد چوہدری کو گرفتار کرکے لے جارہی ہیں.بعدازاں پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے بھی فواد چوہدری کی گرفتاری کے دعوے کی توثیق کی گئی پی ٹی آئی کی جانب سے کہا گیا کہ فواد چوہدری کو گھر کے باہر سے نامعلوم افراد نے گرفتار کر لیا ہے فواد چوہدری کے بھائی فیصل حسین نے بھی اپنی ٹوئٹ میں بتایا کہ ان کے بڑے بھائی کو کچھ دیر قبل بغیر نمبر پلیٹ والی گاڑیوں میں نامعلوم افراد نے غیر قانونی طریقہ سے لاہور میں واقع گھر سے اٹھالیا ہے.انہوں نے کہا کہ اغوا کنندگان نے وارنٹ دکھائے ہیں، نہ اپنی شناخت ظاہر کی فیصل چوہدری نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ فواد چوہدری کو آج صبح ساڑھے 5 بجے گھر کے باہر سے اٹھایا گیا، 4 بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں فواد چوہدری کو لے جایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ فواد چوہدری کی لوکیشن کیا ہے ہمیں نہیں بتایا جا رہا، فواد چوہدری پر کون سے ایف آئی آر ہے ہمیں معلومات نہیں دی جا رہیں انہوں نے عدالتی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی گرفتاری غیر قانونی ہے، عدالتی جنگ لڑیں گے.فواد چوہدری کی اہلیہ حبہ فواد نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ گرفتاری نہیں اغوا ہے، ہمیں کوئی ایف آئی آر نہیں دکھائی گئی، 8 سے 10 پولیس والے گیٹ کھول کر ہمارے گھر کے اندر گھس آئے اور فواد چوہدری کو پکڑ کر لے گئے انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ فواد چوہدری کو اس وقت کہاں لے جایا گیا ہے، کم از کم ہمیں بتایا جائے کہ انہیں کس قانون کے تحت اٹھایا گیا ہے، ہم سے کسی نے رابطہ نہیں کیا، بس انہیں 4 ڈالوں میں بٹھایا اور ان کا فون قبضے میں لے کر وہ لوگ چلے گئے.انہوں نے بتایا کہ ہم نے آئی جی پنجاب سے بھی رابطہ کیا وہاں سے بھی کوئی جواب نہیں آیا، متعلقہ تھانوں سے بھی رجوع کیا لیکن کسی کو معلوم ہی نہیں ہے کہ ان کو کہاں لے کر گئے ہیں فواد چوہدری کی اہلیہ نے کہا کہ یہ اغوا ہے کہ آپ اپنے گھروں میں بھی محفوظ نہیں ہیں، لوگ آکر آپ کو اٹھا کر لے جاتے ہیں، یہ کس طرح کا ملک اور کس طرح کا قانون ہے. انہوں نے کہا کہ اگر ٹارچر کیا گیا تو ہم اس کی سخت مذمت کریں گے، فواد چوہدری کوئی ایسی شخصیت نہیں ہیں جن کو آپ اٹھا کر غائب کردیں اور ہمیں کچھ نہ بتائیں انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس، وزیراعظم اور تمام عہدیداران سے میری اپیل ہے کہ ہمیں بتایا جائے کہ فواد چوہدری کو کیوں اٹھایا گیا، انہیں کہاں لے جایا گیا ہے، ورنہ پھر ہماری ایف آئی آر درج کرلیں کہ انہیں اغوا کیا گیا ہے.پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کے خلاف سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی شکایت پر اسلام آباد کے کوہسار تھانے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے ایف آئی آر میں فواد چوہدری کے ٹی وی انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کی حیثیت ایک منشی کی ہو گئی ہے، نگران حکومت میں جو لوگ شامل کیے جا رہے ہیں، سزا ہونے تک ان کا پیچھا کریں گے اور حکومت میں شامل لوگوں کو گھر تک چھوڑ کر آئیں گے ایف آئی آر کی دستیاب کاپی کے مطابق فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن کے ارکان اور ان کے خاندان والوں کو بھی ڈرایا دھمکایا گیا.
فواد چوہدری کے خلاف مذکورہ ایف آئی آر پاکستان پینل کوڈ کے سیکشن 153-اے (گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا)، 506 (مجرمانہ دھمکیاں)، 505 (عوامی فساد کو ہوا دینے والا بیان) اور 124-اے (بغاوت) کے تحت درج کی گئی ہے. سابق وزیر خارجہ اور رہنما پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی نے فواد چوہدری کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کی علی الصبح بغیر وارنٹ گرفتاری اس ملک کی جمہوریت اور قانون کی بالادستی پر ایک زوردار طمانچہ ہے انہوں نے سوال کیا کہ کیا قصور ہے فواد کا؟ کس جرم کے تحت اٹھایا گیا؟انہوں نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہا خدارا پاکستان کے ساتھ کھلواڑ بند کیا جائے ورنہ حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے.سابق وفاقی وزیر حماد اظہار نے لاہور میں عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فواد چوہدری کو بغیر نمبر پلیٹ ڈالے میں اغوا کیا گیا، یہ بزدلی ہے، فواد کو ایسے حراست میں لیا گیا جیسے دہشت گرد پکڑے جاتے ہیں حماد اظہر نے کہا کہ گزارش ہے بتائیں فواد چوہدری کو کہاں رکھا گیا ہے، متنازع نگران وزیراعلیٰ کو کیا اس مقصد کے لیے لگایا گیا تھا، بتائیں کہ کیا مارشل لا لگ چکا اور اس کا اعلان باقی ہے.حماد اظہر نے کہا کہ اعظم سواتی کو اٹھایا تھا، کیا اسکی آواز دبالی گئی؟، اس ظلم اور بربریت کو ختم کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر خیمے نصب کر دیے گئے ہیں، فواد چوہدری کی فوری رہائی نہ ہونے کی صورت میں ہر چوک تحریر چوک بنانے کی وارننگ بھی ہے پی ٹی آئی رہنما علی زیدی نے بھی پارٹی کے سینیئر رہنما کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے پر تلی ہوئی ہے.انہوں نے کہا کہ پاکستان ان قانون شکن قانون سازوں اور قانون نافذ کرنے والے کرپٹ افسران کے ہاتھوں لاقانونیت کا شکار ہو گیا ہے واضح رہے کہ گزشتہ شب پی ٹی آئی کے آفیشل ٹوئٹر اکاﺅنٹ سے عمران خان کی گرفتاری کے خدشہ کا اظہار کیا گیا تھا ٹوئٹ میں کہا گیا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ کٹھ پتلی حکومت آج رات چیئرمین عمران خان کو گرفتار کرنے کی کوشش کرے گی ٹوئٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ تحریک انصاف کے کارکنان اپنے لیڈر کی حفاظت کے لیے زمان پارک پہنچ رہے ہیں.
0 Comments